کامیاب سیلز مین کی خوبیاں

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: کاروبار


جیسے جیسے انواع و اقسام کی مصنوعات مارکیٹ میں آ رہی ہیں اسی طرح مقابلے کا رحجان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک کمپنی، سٹور یا دوکاندار سب کام خود نہیں کر سکتا لہذا وہ اپنی معاونت کے لیے سیلز مین کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ کسی خریدار کو مطمئن کر کے چیز فروخت کرنا یا چیز کو خریدار کی ضرورت کے مطابق ثابت کر دینا ہی کامیاب سیلزمینی کہلاتی ہے۔

کوئی بھی دوکان یا سٹور سیلز مین کی وجہ سے ہی چلتے ہین، جتنا سیلز مین اچھا ہو گا  اور اپنے کام کے ساتھ انصاف کرنا جانتا ہو گا اتنا ہی فائدہ مند ثابت ہو گا۔ جہاں اس ملازمت کی اہمیت مسلمہ ہے وہاں یہ سیلزمین کے لیے بھی مالی لحاظ سے منفعت بخش ثابت ہوتی ہے کیونکہ اکثر صورتوں میں سیلز مین کو تنخواہ کے علاوہ کمیشن بھی ملتا ہے، یعنی کہ ماہوار تنخواہ تو ملے گی ہی لیکن اس کے علاوہ مال فروخت ہونے پر منافع یا قیمت کا ایک مخصوص حصہ بطور کمیشن بھی سیلز مین کو ادا کیا جاتا ہے ۔

لہذا اگر کوئی سیلزمین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، محنت اور لگن سے کام کرے تو زیادہ مال فروخت کر سکتا ہے تو اسی تناسب سے اسے زیادہ کمیشن ملے گا۔ بعض صورتوں میں تو کمیشن اصل تنخواہ سے بھی بڑھ جاتا ہے جس سے سیلزمین کو خاطر خواہ مالی فائدہ پہنچتا ہے۔

سیلزمین کا کام گو کہ تھوڑا محنت طلب اور پیچیدہ ہوتا ہے لیکن جب انسان گھر سے کام کے لیے نکلے تو پھر اپنی محنت اور لگن سے کافی زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ اگر کبھی آپکو سیلزمین کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنی پڑے تو اپنے کمیشن کے بارے میں ضرور طے کر لیں۔

ملازمت شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ سیلز مین کو کسٹمر یا خریدار کی پہچان ہو اور وہ انکو سمجھ سکے تاکہ انکے مزاج کے مطابق ڈیلنگ کر کے بہتر طریقے سے چیز فروخت کر سکے۔ ویسے تو کسٹمر کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں لیکن چند ایک نہایت ضروری تصور کی جاتی ہیں جن سے بحیثیت سیلزمین آپکا واسطہ زیادہ پڑ سکتا ہے۔

ا۔  محتاط خریدار اور ان سے ڈیلنگ

ب۔ تھکا اور پریشان کسٹمر

ج۔ خواتین کسٹمر اور ان سے ڈیلنگ

د۔ خاص قسم کا کسٹمر

ح۔ لاپرواہ کسٹمر سے ڈیل کرنا

خ۔ شرمیلے کسٹمر سے ڈیلنگ

کامیاب سیلزمین کی خوبیاں

سیلزمین کے لیے چند باتیں ضروری سمجھی جاتی ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ ہر سیلزمین کو ان باتوں کا علم ہو گا۔  اس پوسٹ میں ہم ان ضروری باتوں اور خوبیوں کا ذکر کریں گے جو کہ ہر سیلزمین میں ہونی چاہیں۔ آپ ان باتوں پر عمل کر کے نہ صرف دوکان، کمپنی یا سٹور کے کاروبار کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ خود کو بھی ایک اچھے سیلزمین کے طور پر متعارف کروا سکتے ہیں۔

ا۔ پرڈکٹ/سروس کی معلومات

جب آپ کسی ادارے، سٹور، شو روم یا دوکان پر بحیثیت سیلزمین/ سیلز ریپ ملازمت اختیار کر لیں تو جو چیز آپ نے سیل کرنی ہو اسکے بارے میں تمام ضروری متعلقہ معلومات حاصل کریں۔ اس چیز کے بروشر پڑھیں، سینئر سیلزمین یا مینیجر سے اسکے متعلق پوچھیں تاکہ آپکو اسکی تمام خوبیوں اور خامیوں کا پتہ چل جائے۔ یہ معلومات صرف آپکے اعتماد کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ جب تک آپ کسٹمر کو تسلی بخش طریقے سے اس چیز کے متعلق ضروری معلومات اور خوبیوں سے آگاہ نہیں کریں گے وہ خریداری کی طرف راغب نہیں ہو گا۔

اس معلومات کے سہارے آپ کسٹمر کے تمام سوالات کا خاطر خواہ جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اگر آپ کو متعلقہ چیز کے بارے میں تفصیلاً علم نہیں ہو گا تو آپ خود بھی کسٹمر کے سامنے شرمندگی محسوس کریں گے اور وہ آپ سے چیز بھی نہیں خریدے گا۔ اسطرح نہ صرف کاروبار پر فرق پڑے گا بلکہ آپ کو بھی اچھا سیلز مین نہیں سمجھا جائے گا۔

ب۔ قیمت کا تعین

دوکان یا سٹور میں رکھی ہوئی تمام اشیا کی قیمتیں مقرر ہوتی ہیں، ایک تو آپ کو تمام چیزوں کی قیمتیں زبانی معلوم ہونی چاہیں (تھوڑی سی توجہ اور مشق سے کام مشکل نہیں ) دوسرا آپ کو چیز کی کم از کم قیمت کا بھی علم ہونا چاہئے تاکہ اگر کسٹمر چاہے تو آپ اس کو رعایت دے سکیں۔ سوائے فکس پرائس سٹوروں کے ہر چیز کی دو یا تین قیمتیں ہوتی ہیں۔ ایک جو اس چیز کے ڈبے پر درج ہوتی ہے، دوسری وہ جو جس پر رعایت کر کے فروخت کرتے ہیں اور بعض اوقات مینیجر یا سٹور کے مالک کی مرضی سے بھی خاص رعایت کر دی جاتی ہے۔

لہذا یہ آپ پر لازم ہے کہ اگر کسٹمر آپ کی کم از کم قیمت سے بھی کم کی آفر دے تو آپ مینیجر یا سٹور کے مالک سے ضرور مشورہ کر لیں کیونکہ اصل قیمتِ خرید کا انہیں آپ سے بہتر علم ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ گاہگ بنانے کے لیے اس کو خاص رعایت دے دیں۔ اسکے لیے آپکو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، آپکا مقصد چیز کو فروخت کرنا ہے نہ کہ کسٹمر کے ساتھ مقابلہ۔

ج۔  لباس اور ظاہری شخصیت

ایک سیلزمین کے لیے صاف ستھرے لباس اور اچھی متاثر کن شخصیت کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ سیلزمین کو کسٹمر کے ساتھ بات چیت کرنی پڑتی ہے اسلئے اگر وہ صاف ستھرا ہو گا تو کسٹمر اس سے بات کرنا پسند کرے گا۔ اسی لیے اچھے سیلز مین کو اکثر الائچی، سونف یا کوئی اچھا چیونگم چباتے دیکھا گیا ہے (یقیناً کسٹمر سے بات چیت کے دوران نہیں ) ایک سیلز مین کی حیثیت سے آپکے بال صاف ستھرے اور سنورے ہوئے ہونے چاہئیں۔ چاہے آپ شلوار قمیض پہنتے ہوں یا ادارے کے اصولوں کے مطابق پینٹ شرٹ، وہ صاف ستھرے، بے داغ، استری شدہ اور فیشن کے مطابق ہونے چاہییں۔

رنگوں کا انتخاب آپ کی صوابدید پر ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ باوقار اور مردانہ رنگوں کا ہی انتخاب کریں، یہاں یہ بالکل ضروری نہیں کہ آپکا لباس انتہائی قیمتی ہو، کم قیمت لباس بھی اگر اچھا سلا ہوا اور صاف ہو تو بھی نہایت مناسب لگتا ہے۔

بعض سیلز مین اپنے گریبان کے بٹن کھول کر رکھتے ہیں، یہ انتہائی غیر شریفانہ اور نامناسب انداز ہے۔ ہمیشہ اپنے گریبان اور کف کے بٹن بند رکھیں آپ زیادہ اچھے، شریف اور معزز نظر آئیں گے۔ سیلزمین کے لیے روزانہ شیو کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ شیو نہ کرنے سے انسان تھکا تھکا اور سست نظر آتا ہے جبکہ اچھے سیلزمین کو ہمیشہ تر وتازہ اور چاق و چوبند نظر آنا چاہیئے۔ یہ تمام باتیں ہماری روز مرہ طہارت اور صفائی کے زمرے میں آتی ہیں جو کہ ہر باشعور شخص کو معلوم ہوتی ہیں لیکن مقصد صرف ان پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

د۔ خود اعتمادی اور بول چال

اپنی بول چال میں خود اعتمادی پیدا کیجئے، آپکا واسطہ بہت سے لوگوں سے پڑے گا اور اگر آپ ان کے ساتھ خود اعتمادی سے بات چیت نہیں کریں گے تو اسکا اثر کاروبار پر اور آپکی ملازمت پر پڑے گا۔ اپنے کسٹمر کو مناسب عزت و احترام دیجئے اور باوقار خوش اخلاقی سے پیش آئیے۔ ان سے بہت زیادہ فری ہونے سے گریز کریں۔ پروقار بات چیت اور اعتماد سے کسٹمر کو چیزوں کے بارے میں مکمل معلومات دینا اور انکے سوالوں کے جواب دینا آپکے فرائض میں بھی شامل ہے۔

آجکل اکثر لوگ ملاوٹ اور نقل کی وجہ سے چیز خریدنے سے پہلے بہت زیادہ سوالات کرتے ہیں اور جب تک مکمل طور پر مطمئن نہ ہو جائیں چیز نہیں خریدتے۔ یہ انکا حق بھی ہے لہذا آپ انکو سوچنے کا پورا موقع دیں اور ساتھ ساتھ مخلصانہ گفتگو بھی ضرور جاری رکھیں۔ بعض کسٹمر تو سیلز مین کی گفت و شنید سے متاثر اور مطمئن ہو کر چیز خرید لیتے ہیں۔


Share

Add Your Thoughts