رنگوں کا خواتین کی شخصیت پر اثر

مصنف: مسز ثمینہ پروین | موضوع: خواتین


عام لوگ رنگوں کے انتخاب کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے، وہ سمجھتے ہیں کہ رنگ ویسے ہی سب کو اچھے لگتے ہیں اور ان کے اچھا لگنے یا نہ لگنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ لیکن نفسیاتی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رنگوں سے نہ صرف انتخاب کرنے والے کی شخصیت کے بارے میں معلومات ملتی ہے بلکہ اسکے احساسات اور جذبات کی بھی کافی حد تک عکاسی کرتے ہیں۔

اگر کسی کا پسندیدہ رنگ معلوم ہو تو ہم نفسیات کی روشنی میں اس خاتون کی عادات و اطوار کے متعلق کافی کچھ جان سکتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ رنگ جو کہ سورج کی شعاعوں کی وجہ سے بنتے ہیں وہ ہمارے پردہ بصارت کو متاثر کرتے ہیں اور جو اعضا ہماری پردہ بصارت کو دماغ سے ملاتے ہیں وہ ان رنگوں کا اثر بھی ہمارے دماغ تک لے جاتے ہیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ ہر رنگ کی اپنی مخصوص حس اور اثر ہوتا ہے، اسلیے کسی بھی پسندیدہ رنگ کی حس دماغ پر مستقل طور پر مخصوص اثرات مرتب کرتی ہے اور اس پسندیدہ رنگوں کی حس ہمارے اعصاب پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جس سے طبیعت کا ایک مخصوص میلان وقوع پذیر ہوتا ہے۔ آپ رنگوں کے متعلق مندرجہ ذیل معلومات کو اپنے گرد و پیش پر آزما کر دیکھئے۔

سرخ رنگ

سرخ رنگ عموماً ان خواتین کا پسندیدہ ہوتا ہے جو بہت زیادہ پر اعتماد ہوتی ہیں اور مصیبتوں، پریشانیوں سے نہ تو سمجھوتہ کرتی ہیں اور نہ ہی شکست تسلیم کرتی ہیں، ان میں بہت کچھ کرنے کی خواہش ہوتی ہے، یہ رنگ حیوانیت کا نمائندہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور کسی سے شدید محبت ، نفرت اور قربانی کے جذبات کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ عام طور پر سرخ رنگ خطرے کی نشانی بھی سمجھا جاتا ہے۔

سرخ رنگ پسند کرنے والی خواتین میں تشدد کا عنصر بھی غالب ہو سکتا ہے اور ایسی خواتین اکثر جلد غصے میں میں آنے والی ہوتی ہیں۔ یہ رنگ خواہشات میں ابال پیدا کرتا ہے (شاید اسی لیے دلہن کے لیے زیادہ تر سرخ جوڑا ہی منتخب کیا جاتا ہے) یہ رنگ پسند کرنے والی خواتین پیار و محبت کے جذبات سے بھی سرشار ہوتی ہیں اور انکے پیار کی امنگ ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔

سفید رنگ

سفید رنگ کو صلح کا رنگ قرار دیا جاتا ہے، یہ رنگ پاکیزگی اور عفت کا رنگ تصور کیا جاتا ہے۔ اس رنگ کو پسند کرنے والی خواتین ایک متوازن ذہن کی حامل ہوتی ہیں اور ان میں قربانی کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی خواتین نہایت ہی معتدل مزاج اور متوازن شخصیت رکھتی ہیں اور ان کو نہ صرف اپنی خواہشات اور تمنائوں پر کنٹرول ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں پر بھی اچھا تاثر چھوڑتی ہیں۔

سرخ رنگ پسند کرنے والی خواتین اپنے حال میں مست اور اپنی ذات میں مگن رہتی ہیں لیکن جب دوستی کرنے پر آئیں تو نہایت اچھی اور قابل اعتماد دوست ثابت ہوتی ہیں۔

سیاہ رنگ

سیاہ رنگ کو عموماً ماتمی رنگ تصور کیا جاتا ہے، یہ جادو ٹونے اور نحوست کے طور پر بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا رنگ عموماً سرد مزاج عورتیں ہی پسند کرتی ہیں۔ بعض عورتیں دوسروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے اسے استعمال کرتی ہیں۔ یہ رنگ زیادہ تر گورے رنگ کی عورتوں کا پسندیدہ ہوتا ہے کیونکہ رنگوں میں تضاد کی وجہ سے نگاہ فوراً ان کے چہرے کی طرف اٹھتی ہے جو سیاہ بادلوں میں چاند کی مشابہت رکھتی ہے اور ان کا حسن اور بھی زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔

سبز رنگ

سبز رنگ ہمارے ہاں مذہبی اور مقدس رنگ تصور کیا جاتا ہے، اس رنگ سے آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے جس کا ہمارے اعصاب پر نہایت ہی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ اس رنگ کو حد سے زیادہ پسند کرنے والی خواتین عموماً انتہائی ذہین اور بالغ نظر ہوتی ہیں، ایسی خواتین کو اپنی جبلتوں اور نفسانی خواہشات پر بہت زیادہ کنٹرول ہوتا ہے اور وہ عموماً ایک صاف، متوازن اور ہموار ذہن کی مالک ہوتی ہیں۔

پیلا رنگ

پیلا رنگ خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے اس رنگ کو پسند کرنے والی خواتین عموماً انتہائی ذہین اور بالغ نظر ہوتی ہیں۔ ایسی خواتین کو اپنی جبلتوں اور نفسانی خواہشات پر بہت کنٹرول ہوتا ہے اور وہ ایک صاف، متوازن اور ہموار ذہن کی حامل ہوتی ہیں۔

نیلا رنگ

نیلا رنگ پسند کرنے والی خواتین نہایت ہی متعدل مزاج ہوتی ہیں اور نہ صرف دوسروں سے عزت و احترام سے پیش آتی ہیں بلکہ خود بھی دوسروں سے اسی رویے کی توقع رکھتی ہیں۔ ایسی خواتین عام طور پر دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش زیادہ کرتی ہیں۔ انکی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں کو ان سے کوئی شکایت نہ ہو۔ اکثر معاملات میں وہ انتہا پسند بھی دیکھی گئی ہیں یعنی کہ کبھی تو وہ مکمل مادہ پرستی کی طرف راغب ہوتی ہیں اور کبھی خیالات اور عادات کے اعتبار سے بالکل پاکیزہ۔

یہ تو تھی رنگوں کے متعلق کچھ معلومات کہ ان رنگوں کا خواتین کی شخصیت پر کیا اثر ہوتا ہے۔ یہ تمام باتیں نفسیات کی روشی میں کی گئی ہیں اور ان میں سے کچھ باتیں غلط بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ بہرحال اگر ان باتوں سے کسی کی دلآزاری ہوئی ہو تو اس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔

Share

Add Your Thoughts