مہمان بنتے ہوئے خیال رکھنے کی باتیں

مصنف: مسز ثمینہ پروین | موضوع: تعلقات کا فن


ہم سب سماج کے ایک بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔اس دنیا میں تنہا زندگی گزارنا بالکل نا ممکن سی بات ہے اورہمیں اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ تعلقات رکھنے پڑتے ہیں۔کسی کی خوشی ،غمی میں شریک ہونا ،دکھ درد میں کام آنا اور مشکل وقت میں ساتھ دینا سب بہترین معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ رواج عام ہے کہ ملنے جلنے والے دوست،عزیز رشتہ دار ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں۔یہ کسی خاص موقع پر بھی ہوتاہے اور ویسے ہی گپ شپ کے لیے بھی لوگ ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں۔اس طرح نہ صرف پیار و محبت بڑھتا ہے بلکہ ایک دوسرے کے مسائل سے بھی آگاہی حاصل ہوتی رہتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مہمان باعثِ رحمت ہوتے ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے مہمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو مہمان بننے کی باتوں کو فراموش کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ باعثِ زحمت بھی بن جاتے ہیں۔کسی کے ہاں مہمان بن کر جانا اچھی روایت ہے لیکن چند باتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ آپ کا میزبان آپ کو مل کر خوشی محسوس کرے اور اور آئندہ بھی آپ کو خوش آمدید کہے۔ اگر آپ ان باتوں پر عمل کر لیں تو آپ کا ہمیشہ انتظار کیا جائے گا۔

1۔ کبھی کسی کے ہاں بغیر اطلاع دیے مت جائیں۔بعض لوگ جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے وہ اپنے میزبان کو بغیر بتائے ان کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں آپ کا میزبان شاید اس کے لیے تیار نہ ہو اور اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہو۔اس طرح وہ آپ کی درست طور پر خاطر مدارت نہیں کر سکے گا۔لوگ اسے بے تکلفی کا نام دے دیتے ہیں لیکن یہ مناسب نہیں۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ گھر میں مہمان کی خاطر مدارت کے لیے اشیاء نہیں ہوتیں اور اگر بچے بھی سکول گئے ہوئے ہوں تو پھر اور مسئلہ ہوتا ہے۔ اس طرح آپ کا میزبان شرمندگی محسوس کر سکتا ہے۔لہذا ہمیشہ بغیر اطلاع کسی کے ہاں جانا اچھی بات نہیں۔

2۔ میزبان کی گھریلو روٹین کو جا نیے۔اکثر لوگ دن کو سوتے ہیں،شام کو بچوں کو پڑھاتے ہیں اور بعض رات کو جلدی سونے کے عادی ہوتے ہیں۔اگر آپ کسی ایسےوقت میں کسی کے ہاں تشریف لے جائیں گے تو ان کی روٹین یقینا ڈسٹرب ہو گی اور آپ باعث زحمت سمجھے جائیں گے۔

3۔اپنے میزبان کے لیے تحفے لے کر جائیے۔اس سے پیار اور قدر دونوں بڑھتی ہے۔اگر آپ کا میزبان کم مالی حیثیت کا ہو تو پھر بچوں کو سو دو سو روپے دینا بھی اچھا سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ اپنی محبت اور خلوص کا دلی اظہار بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ کسی خاص موقع پر جا رہے ہیں تو پھر اُسی مناسبت سے تحفے لے کر جائیں۔

4۔ میزبان کے گھر اور اس کی جیزوں میں کوئی نقص نہ نکالیں اس سے اسکی دل آزری ہونے کا خدشہ ہے۔ہاں اگر بہت بے تکلفی ہے تو آپ کسی بہتر انداز میں کسی غلطی کی نشاندہی کر دیں لیکن لہجہ میں خلوص اور ہمدردی ہو۔آپ کو بلاوجہ ان کے معاملات میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں۔

5۔ اکثر خواتین کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے گھروں کی ڈیکوریشن بھی اپنی مرضی کی دیکھنا چاہتی ہیں اور بن مانگے ایسے ایسے مشورے دیتی ہیں کہ میزبان خاتون دانت پیستی رہتی ہے۔ان کا اپنا لائف سٹائل ہے،کوئی چیز اگر انہوں نے کسی خاص انداز سے سجائی ہے تو آپ کو کیا اعتراض ہے ،ان کی ضرورت ہی ایسے پوری ہوتی ہو گی۔

6۔اگرآپ کو کسی کے گھر کی کوئی چیز یا انداز پسند آ جائے تو کھلے دل سے اس کی تعریف کیجئے۔تعریف ایک ایسا حربہ ہے جو آپکے لیے ان کے گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے گا۔ایک خاتون کسی کے ہاں مہمان جاتی تھیں اور داخل ہوتے ہی میزبان کی بیٹی کی دل کھول کر تعریف کرتی تھیں کہ بھئی ہم تو بٹیا کے ہاتھ کی چائے پینے آئے ہیں۔اتنی مزیدار بناتی ہے کہ بس کیا بتاؤں۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ بٹیا۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح مرد حضرات بھی خاتون ِخانہ کے کھانوں یا گھر کی سجاوٹ وغیرہ کے متعلق چند اچھے جملے بول سکتے ہیں۔یاد رہے کہ محبت اور خلوص سےکہی ہوئی بات یقینا اپنا اثر چھوڑتی ہے۔

مہمان ضرور بنیے لیکن اس طرح سے کہ آپ کا میزبان آپ کو بوجھ نہ جانے اور آپ کے دوبارہ آنے کا منتظر رہے۔ایسا یقینا ہو سکتا ہے اور اس معاشرے میں ہوتا بھی ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ آپ اپنے میزبان کی نفسیات،رہن سہن اور مزاج کا درست اندازہ لگا کر اس سے ایسا برتاؤ کریں کہ وہ کہے بغیر نہ رہ سکے،بھائی صاحب پھر کب چکر لگے لگا یا بہن جلد ہی فرصت نکال کر چکر ضرور لگانا۔

Share

Add Your Thoughts