مردانہ کمزوری کا علاج

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: صحت و تندرستی

مردانہ کمزوری آجکل مردوں کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں مرد پریشانی کا شکار ہیں۔ اس پوسٹ میں ہم دیکھیں گے کہ مردانہ کمزوری کی علامات کیا ہیں، اس کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے اور آیا کہ مردانہ کمزوری کا علاج ممکن ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ مردوں کی بہت بڑی تعداد صرف مردانہ کمزوری کے وہم میں مبتلا ہے اور اصل میں ان میں ایسی کوئی خاص پرابلم نہیں ہوتی۔

مردانہ کمزوری جسے عرف عام میں نامردی بھی کہا جاتا ہے ایک ایسی کمزوری ہے جس سے مرد مباشرت کے عمل کو درست طریقے سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔ مردانہ کمزوری کا شکار مردوں میں زیادہ تعداد بڑی عمر کے مردوں کی ہوتی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے آئیے دیکھتے ہیں کہ عمومی طور پر مردانہ کمزوری کی علامات کیا کیا ہو سکتی ہیں:

مردانہ کمزوری کی علامات

1۔ ایک صورت میں مرد عملِ مباشرت میں کوئی خاص رغبت محسوس نہیں کرتا، یعنی کہ اس کا دل ہی نہیں کرتا کہ وہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔

2۔ مردانہ کمزوری کے شکار مرد اگر مباشرت کرنا بھی چاہیں تو ان کا آلئہ تناسل انکا ساتھ نہیں دیتا۔ اول تو اس میں مناسب اکڑائو پیدا ہی نہیں ہوتا، اگر ہو بھی جائے تو جلد ہی ڈھیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ چند مردوں میں سرعتِ انزال کی شکایت بھی پائی جاتی ہے۔ اس وجہ سے مرد اپنی زوجہ کے سامنے شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ ایسے مرد بھی مباشرت کے عمل سے کترانے لگتے ہیں اور زندگی میں کوئی خاص رنگینی محسوس نہیں کرتے۔

3۔ مردانہ کمزوری کی ایک قسم اور ہے جس میں مرد کا مباشرت کے دوران بہت جلدی انزال ہو جاتا ہے اور انہیں سرعت انزال کا علاج بھی تلاش کرنا پڑتا ہے۔

یہ تو تھیں مردانہ کمزوری کی علامات جو کم یا زیادہ، ایک یا تینوں مختلف مردوں میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اکثر مرد مردانہ کمزوری کا علاج کروانا چاہتے ہیں تاکہ اس موزی مرض سے چھٹکارا پایا جا سکے۔ سمجھدار مرد پہلے اپنی اس کمزوری کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں، اس کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد مردانہ کمزوری کا حل نکلاتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے مردوں کے لیے یہ گائیڈ ترتیب دی ہے تاکہ وہ اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور جب وہ اسکو بہتر طریقے سے جان لیں تو اپنے حالات کے مطابق مردانہ کمزوری کا علاج بہتر طریقے سے کروا لیں۔

سب سے اہم بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ مردانہ کمزوری کوئی جان لیوا مرض نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا مسئلہ جو آسانی سے حل نہ ہو سکے۔

مردانہ کمزوری کا شکار کونسے مرد ہوتے ہیں؟

بھائیو مردانہ کمزوری کا شکار ہر کوئی نہیں ہوتا لیکن آجکل کے دور میں مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس مسئلے میں الجھی ہوئی ہے۔ تسلی رکھیں آپ اس میں اکیلے نہیں بالکہ آپ کے ارد گرد ہزاروں مرد اس مسئلے کا شکار ہیں۔ عمومی طور پر مردوں کی مندرجہ ذیل قسمیں مردانہ کمزوری کا شکار پائے جاتے ہیں:

1۔ بڑھتی عمر کے مرد جن کی جوانی ڈھلنا شروع ہو چکی ہو۔ آجکل ویسے 40 سال کے لگ بھگ برد ہی مردانہ کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس میں جہاں بڑھتی عمر کے اثرات کا عمل دخل ہوتا ہے وہاں مردوں کا اپنی عمومی جسمانی صحت کا خیال نہ رکھنا اور خوراک کا درست استعمال نہ کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ بڑھتی عمر کے مرد اگر ایک صحتمند زندگی گزارنا شروع کر دیں تو انہیں نہ مردانہ کمزوری ہو اور نہ ہی انہیں مردانہ کمزوری کا علاج ڈھونڈنا پڑے۔

2۔ ایسے مرد جو بے راہ روی کا شکار ہوں اور جوانی کو بے دردی سے استعمال کیا ہو وہ بھی زندگی کے کسی موڑ پر مردانہ کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر مردانہ کمزوری کا حل تلاش کرتے بھرتے ہیں۔ انکو تو صرف نصیحت ہی کی جا سکتی ہے مگر ایسے مرد بھی پریشان نہ ہوں، اگر وہ بھی توبہ کریں اور ایک صاف ستھری زندگی گزارنے کا وعدہ کریں تو انہیں بھی مردانہ کمزوری کا علاج بتایا جا سکتا ہے۔

3۔ کسی خاص اور پیچیدہ بیماری کے شکار مرد بھی مردانہ کمزوری محسوس کر سکتے ہیں۔ شوگر کے مریض، ہارٹ پیشنٹ، گردے مثانے کی بیماریاں اور دیگر کئی امراض مردوں میں جنسی کمزوری پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ وہ اپنی موجودہ بیماری کا علاج تسلی سے کروائیں، بہت حد تک ممکن ہے کہ ٹھیک ہونے کے بعد انکی مردانہ کمزوری کا علاج بھی خود بخود ہی ہو جائے۔

مردانہ کمزوری کا علاج

مردانہ کمزوری کسی بھی قسم کی ہو اسکا علاج بالکل ممکن ہے سوائے چند ایک سیریس بیماری کے شکار مردوں کو چھوڑ کر کر زیادہ تر مرد اس سے چھٹکارا پا کر بالکل صحتمند اور نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔

1۔ صحتمند غذا کا استعمال

مردانہ کمزوری کا علاج اگر اچھی خوراک سے کیا جائے تو یہ ایک انتہائی محفوظ اور اچھا عمل ہے جس سے آپکی عمومی صحت پر بھی خوشگوار اثر پرے گا اور آپکی مردانہ کمزوری بھی دور ہو جائے گی۔ مردوں کے لیے اچھی قوت بخش غذا انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف تولید کا عمل سرانجام دینا ہوتا ہے بلکہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی نبھانی ہوتی ہے۔ اس لیے مردوں کو چاہئیے کہ اچھی خوراک سے اپنی مردانہ کمزوری کا حل خود ہی کر لیں نہیں تو انہیں مردانہ کمزوری کی دوا استعمال کرنی پڑے گی۔

اب مردوں کو کونی غذا استعمال کرنی چاہیئے جن سے انکی قوتِ باہ میں اضافہ ہو جائے، اسکے لیے ہم نے ایک الگ سے گائیڈ تیار کی ہے جس سے سے آپ راہ نمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

2۔ مردانہ کمزوری کی دوا استعمال کریں

 آجکل بہت سی اقسام کی دوائیاں مارکیٹ میں بِک رہیں ہیں، اس لیے احتیاط کیجئے ہر مردانہ کمزوری کی میڈیسن قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔ اس لیے اچھی طرح ریسرچ کر لیں یا کسی قابلِ اعتماد دوست سے مشورہ کریں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ جگہ جگہ نیم حکیم بیٹھے ہیں جو راتوں رات مرد کو انسان سے گھوڑا، شیر اور نجانے کیا کیا بنا دیتےہیں، ان سے بچیں اور کوئی اچھی آزمودہ مردانہ کمزوری کی دوا استعمال کریں۔ تھوڑی سی کوشش اور محنت سے آپ کو ضرور کوئی نہ کوئی اچھی میڈیسن مل جائے گی جو آپ کا مسئلہ حل کر دے گی۔

3۔ ماہر ڈاکٹر سے رابظہ کریں

مردانہ کمزوری کے شکار مردوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے اب پاکستان کے ہر شہر میں آپکو ماہر ڈاکٹر اور سیکسولوجسٹ مل جائیں گے جو بہتر طریقے سے مردانہ کمزوری کا علاج کر سکیں گے۔ اگر آپ اپنی مردانہ کمزوری کو بالکل پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے تو ایسے ماہر امراض سے ضرور ملیئے وہ یقیناً آپ کو بہت اچھا مشورہ دے گا۔

آجکل بازاروں میں ہر دیوار پر کسی نہ کسی حکیم کا پتہ لکھا ہوتا ہے جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور سادہ لوح مریضوں سے رنگا رنگ کشتوں کے اچھے بھلے پیسے بٹور لیتے ہیں۔ ایسے نیم حکیموں سے بچیں تاکہ آپ اپنی بچی کچی مردانہ طاقت کو قائم رکھ سکیں۔

یہ وہ مردانہ کمزوری کے علاج تھے جن سے ہر کوئی واقف ہوتا ہے لیکن ین پر عمل کرنے کے لیے ہلکی سی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بات ہر صورت میں اپنے ذہن میں بٹھا لیں کہ تقریباً ہر قسم کی مردانہ کمزوری کا علاج ممکن ہے اور آپ تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے اپنی مردانہ کمزوری کو ختم یا کم کر سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ:

1۔ ایک صحتمند اور صاف ستھری زندگی گزااریں

2۔ اپنے خیالات اور نیت کو صاف رکھیں، اچھی سوچ اپنائیں

3۔ مردانہ کمزوری کو اپنے ذہن پر حاوی نہ ہونے دیں

4۔ کھیل کود اور ورزش کو اپنی زندگی کے روز مرہ معمولات میں شامل کریں

5۔ کثرت غسل اور جسمانی پاکیزگی کو خاص اہمیت دیں

6۔ اچھی، صحتمند اور قوت بخش غذا استعامل کریں

7۔ مردانہ کمزوری اگر زیادہ سنگین صورت اختیار کر لے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں

8۔ مردانہ کمزوری کا علاج کسی ماہر سے کروائیں اور نیم حکیموں سے بچیں

9۔ بغیر تحقیق کیے صرف اشتہاروں سے متاثر ہو کر مردانہ کمزوری کی دوا ہر گز استعمال نہ کریں

بھائیو اور دوستو یہ وہ چند اہم باتیں ہیں جو آپ ذہن میں رکھیں تو یقیناً اپنی مردانہ کمزوری پر قابو پا کر ایک خوشگوار اور صحتمند زندگی گزار سکتے ہیں اور اس طرح بہت سی صورتوں میں نہ آپکو مردانہ کمزوری کی دوا کی ضرورت رہے گی اور نہ ہی آپکو مردانہ کمزوری کا علاج کروانا پڑے گا۔

Share

Mardana Kamzori ka Ilaj in Urdu

Mardana kamzori aj kal mardon ka aik intahai ahem msala hy jis ki waja se senkron mard pareshani ka shikar hein. Is post mein hum dekhein ge ke mardana kamzori ki alamat kya hein, is ko kese hal kia ja sakta hy or aya ke mardana kamzori ka ilaj mumkin hy? Is ke sath ye bi yaad rakehin ke mardon ki aik bohat bari tadad sirf mardana kamzori ke weham mein mubtla hy or asal mein inhein aisi koi khas problem nai.

Mardana kamzori jise urf-e-aam mein mein na-mardi bhi kaha jata hy aik aisi kamzori hy jis se mard mubasharat ke amal ko darust tarike se paya takmeel tk nahi poncha sakta. Mardana kamzori ka shikar mardon mein zyada tada bari umar ke mardana kamzori ki alamat kya kya ho sakti hein:

Mardana Kamzori Ki Alamat

1. Aik surat mein mard amal-e-mubasharat mein koi khas raghbat mehsoos nai krta, yani ke is ka dil hi nahi krta ke wo apni biwi ke pass jae.

2. Mardana kamzori ke shikar mard agar mubasharat krna bi chahein to in ka azu tnasul un ka sath nahi deta. Awal to is mein munasib akrao paida nahi hota, agar ho bhi jaee to jald hi dheele pun ka shikar ho jata hy. Is wajha se mard apni zoja ke samne bi sharmindgi mehsoos krta hy. Aise mard bhi mubasharat ke amal se katrane lug jate hein or zondagi mein koi khas rangeeni mehsoos nai krte.

3. Mardana kamzori ki aik qisam or hy jis mein mard ka mubasharat ke doran bohat jaldi anzal ho jata hy. Is ko aam zuban mein surat-e-anzal kaha jata hy.

Ye to thein mardana kamzori ki alamat jo kum ya zyada, aik ya teenon mukhtalif mardon mein pai jati hein. Is liye aksar mard mardana kamzori ka ilaj karwana chate hein ta ke is moozi marz se chutkara paya ja sake. Samjhdar mard pehle apni is kamzori ke mutaliq mukamil malumat hasil krte hein. Is ko achi tra samjhne ke badh apni mardana kamzori ka hul nikalte hein. Isi liye hum ne mardon ke liye ye guide post tarteeb di hy ta ke wo is masle ko achi tra samjh sakein or jub wo isko behtar tariqe se jaan lein to apne halat ke mutabiq mardana kamzori ka ilaj samjhdari se karwa lein.

Sub se ahem baat aap zehan nasheen kr lein ke mardana kamzori koi jaan lewa marz nahi or na hi koi aisa masla hy jo asani se hul nah ho sake.

Mardana Kamzori ke Shikar Konse Mard Ho Sakte Hein?

Bhaio mardana kamzori ka shikar hr koi nai hota lekin aj kal ked or mein mardon ki aik bohat bari tadad is masle mein uljhi hui hy. Tasali rakhein ap is mein akele nahi bulke aap ke ird gird hazaron mard isi masle ka shikar hein. Amoomi tor pr mardon ki mandrja zel qismein mardana kamzori ka shikar pae jate hein:

1. Barhti umar ke mard jin ki jawani dhalna shru ho chuki ho. Aaj kal wese 40 saal ke lag bagh mard hi mardana kamzori ka shikar ho jate hein. Is mein jahan barhti umar ke asrat ka amal dakhal hota hy wahan mardon ka apni amoomi jismani sehat ka khyal na rakhna or khoraak ka drust istemal nah krna bhi shamil hota hy. Barhti umar ke mard agar aik sehatmund zindagi guzarna shru kr dein to inhein nah mardana kamzori ho or na hi inhein mardana kamzori ka ilaj karwana pare.

2. Aise mard jo be-rah-rawi ka shkar ho or jino ne apni jawani ko be-dardi se istimal kia h, wo bi zindagi ke kisi mor pr mardana kamzori ka shikar ho jate hein or phir mardana kamzori ka hul talash krte phirte hein. Inko to sirf nasihat hi ki ja sakti hy magar koi pareshani ki baat nai kyun ke agar wo bi toba kr lein or saaf suthri zindagi guzarne ka wada krein to in ko bi mardana kamzori ka ilaj bataya ja sakta hy.

3. Kisi khas or pecheeda bemari ke shikar mard bi mardana kamzori mehsoos kr sakte hein. Sugar ke mareez, hear patient, gurde masane ki bemarian or deegar kai amraaz mardon mein jinsi kamzori paida kr dete hein. Is ka hul ye hy ke wo apni mojooda bemari ka ilaj tasali se karwa lein, bohat mumkin hy ke us bemari ke theak hone ke badh inki mardana kamzori ka ilaj khud bakhood hi ho jae.

Mardana Kamzori Ka Ilaj

Mardana kamzori kisi bi qisam ki ho is ka ilaj bilkul mumkin hy siwae chund aik serious bemari ka shikar mardon ko chor kr zyada tr mard as se chutkara pa kr bilkul sehat mund zindagi guzar sakte hein.

1. Sehat Mund Ghiza Ka Istimal

Mardana kamzori ka ilaj agar achi khorak se kia jae to ye aik intahai mehfooz or acha amal hy jis se aap ki amoomi sehat pr bi khush gawar asar pare ga or aap ki mardana kamzori bi door ho jae gi. Mardon ke liye achi quat baksh ghiza intihai aehmiat ki hamil hy kyun ke inhon ne na sirf toleed ka amal sur-anjam dena hota hy balke apne khandan ki dekh bhal ki zimadari bhi nibhani hoti hy. Is liye mardon ko chayie kea chi khorak se mardana kamzori ka ilaj khud hi kr lein, nahi to inhein mardana kamzori ki dawa istimal krni pare gi.

Ab mardon ko konsi ghiza istimal krni chaye jin se inki quwat e bah mein izafa ho jae, is ke liye hum ne aik alag se mufasil guide tayar ki hy jis se aap rahnumai hasil kr sakte hein, Quwat-e-Bah Mein Izafe ke Liye Khorak

2. Mardana kamzori ki dawa

Mardana kamzori ki dawa istimal krein, aj kal bohat si iqsam ki dawaian market mein bik rahi hein, eehtiat kijie, hr mardana kamzori ki medicine qabil-e-ehtbar nahi hoti. Is liye achi tra research kr lein ya kisi qabil-e-ihtmad dost se mashwara krein. Jaga jaga neem hakeem bethe hein jo raton raat mard ko insan se ghora, sher or najane kya kya bna dete hein. In se bachein or koi achi azmooda mardan kamzori ki dawa istemal krein. Thori si koshish or mehnat se aap ko zaroor koi na koi achi medicine mil jae gi jo aap ka masla hulk r de gi.

3. Mahir Doctor se Rabta Krein

Mardana kamzori ke shikar mardon ki tadad mein izafe ki waja se ab Pakistan ke hr shehr mein aap ko mahir doctor or sexologist mil jaein ge jo behtar tariqe se mardana kamzori ka ilaj kr sakein ge. Agar aap apni is kamzori ko bilkul posheeda nahi rakhna chate to aise mahir-e-amraz se zaroor milein wo yaqeenun aap ko acha mashwara de ga.

Aj kal bazaron mein hr deewar pr kisi na kisi hakim ka pata likha hota hy jo bare bare daweh krte hein or sada loh mareezon se ranaga rang kushton ke ache bhale pese bator lete hein, aise neem hakeemon se bachein ta-ke aap apni bachi kuchi mardana taqat ko qaim rakh sakein.

Ye wo chund mardana kamzori ke ilaj the jin se hr koi waqif hota hy lekin in pr amal krne ke liye halki si tehreek ki zaroorat hoti hy.

Ye baat her soorat mein apne zehan mein bitha lein ke taqreeban her qisam ki mardana kamzori ka ilaj mumkin hy or aap thori si tawajo or koshish se apni mardana kamzori ko khatum yak um ker sakte hein. In tamam baton ka khulasa ye hy ke aap:

  • 1. Aik sehat mund or saaf suthri zindagi guzarein
  • 2. Apne khyalat or niat ko saaf rakhein, achi soch apnaein
  • 3. Mardana kamzori ke lafz ko apne zehan per bilkul hawi nah hone dein
  • 4. Khel kood or warzish ko apni zindagi ke roz mara mamulat mein shamil krein
  • 5. Kasrat-e-ghusal or jismani pakeezgi ko khas aehmiat dein
  • 6. Achi, sehat mund or quwat baksh ghiza istimal krein.
  • 7. Mardana kamzori agar zyada sangeen soorat ikhtiar kr le to kisi ache doctor se rajooh krein.
  • 8. Mardana kamzori ka ilaj kisi mahir se karwaein or neem hakeemon se bachein
  • 9. Begair tehqeeq kiye sirf ishtyaron se mutasir ho kr mardana kamzori ki dawa hr giz istemal na krein.
  • 10. Allah Talah se dua krein or madad mangein, woi sub ki muhkalein asan krne wala hy.

Bhaio or dosto ye wo chand ahem batein hein jo aap zehan mein rakhein to yaqeenan aap apni mardana kamzori per qaboo pa kr sehat mand zindagi guzar sakte hein or is tara bohat si soorton mein aap ko mardana kamzori ki dawa ki zaroorat rahe gi or nah hi mardana kamzori ka ilaj karwana pareh ga.

You May Also Like